صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۵ - فرض کے علاوہ بہترین نماز گھر میں

فرض کے علاوہ بہترین نماز گھر میں ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۵

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا ، قَالَ : فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَاءُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءُوا لَيْلَةً ، فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ ، قَالَ : فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ بِكُمْ صَنِيعُكُمْ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُكْتَبُ عَلَيْكُمْ ، فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ ، إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ " .

زید بن ثابت روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پتوں وغیرہ کا یا بوریئے کا ایک حجرہ بنایا اور نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس میں نماز پڑھنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بہت لوگ اقتدا کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔پھر ایک رات سب لوگ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر کی اور ان کی طرف نہ نکلے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آوازیں بلند کیں اور دروازہ پر کنکریاں ماریں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف غصہ سے نکلے اور ان سے فرمایا: ”تمہاری یہ حالت ایسی ہی رہتی تو گمان ہو گیا تھا کہ یہ نماز بھی تم پر فرض نہ ہو جائے۔ تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو، اس لئے کہ سوائے فرض کے آدمی کی بہتر نماز وہی ہے جو گھر میں ہو“ (کہ ریا سے دور رہے)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک واقعہ کے ذریعے بہت اہم بات سامنے آتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ نماز پڑھتے تھے، پھر لوگ آپ کے پیچھے نماز پڑھنے لگے۔ جب لوگ جمع ہونے لگے اور دروازے پر آوازیں بلند کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں باہر آئے اور فرمایا کہ تمہارا یہی عمل چلتا رہتا تو اندیشہ تھا کہ یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھو، کیونکہ فرض نماز کے سوا آدمی کی بہتر نماز وہ ہے جو گھر میں ہو۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام “نفل نماز گھر میں” اور عبادت میں آسانی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فرض نماز کے علاوہ نفل نماز گھر میں پڑھنا بہتر بتایا گیا ہے۔
  • دین میں ایسی پابندی سے بچنا چاہیے جو لوگوں پر مشقت بن جائے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کی آسانی کا خیال رکھا۔
  • عبادت میں اخلاص اور گھر کا ماحول دونوں اہم ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں