صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۶ - جو فرض ہو جائے اسے نبھانا مشکل ہو سکتا ہے
عبادت میں طاقت اور آسانی کی تعلیم
صحیح مسلم : ۱۸۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۶
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِيهِ ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ .
زید بن ثابت روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بورئیے سے مسجد میں ایک حجرہ بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کئی رات نماز پڑھی یہاں تک کہ لوگ جمع ہوئے اور ذکر کی حدیث سابق کے مانند اور اس میں یہ زیادہ کیا کہ ”اگر فرض ہو جاتی تم پر یہ نماز تو تم اس کو ادا نہ کر سکتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۶ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت کے اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں بورئیے کا ایک حجرہ بنایا اور کئی رات اس میں نماز پڑھی۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ روایت میں یہ بات خاص طور پر آئی کہ اگر یہ نماز تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اسے ادا نہ کر سکتے۔ یہ الفاظ دین کی آسانی کو سمجھاتے ہیں۔ نفل نماز، تہجد یا رات کی عبادت اچھی ہے، مگر اسے اس طرح اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ آدمی پر ایسی پابندی بن جائے جسے وہ نبھا نہ سکے۔ اس حدیث میں “طاقت کے مطابق عبادت” اور “گھر میں نفل نماز” دونوں باتیں صاف نظر آتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل عبادت کو اتنا لازم نہ سمجھا جائے کہ مشقت بن جائے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے امت پر آسانی کا خیال رکھا۔
- گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب اسی آسانی کا حصہ ہے۔
- عبادت طاقت کے مطابق ہو تو اسے جاری رکھنا آسان ہوتا ہے۔
