صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۷ - قرآن سن کر آیت یاد آ جانا
قرآن سننے کی برکت اور آیت کا یاد آنا
صحیح مسلم : ۱۸۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً ، كُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کا قرآن پڑھنا مسجد میں سنتے تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحمت کرے، مجھے اس نے فلاں آیت یاد دلادی جس کو میں فلاں سورۃ سے چھوڑ دیتا تھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو مسجد میں ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحمت کرے، اس نے مجھے فلاں آیت یاد دلا دی جسے میں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔ اس حدیث کا موضوع “قرآن سننا” اور “آیت یاد دلانا” ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ دوسرے کی تلاوت سننا بھی فائدہ دے سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔ اس روایت میں تلاوت کرنے والے کی اچھائی اور سننے والے کے فائدے دونوں پہلو نظر آتے ہیں، مگر بات اسی حد تک ہے جو حدیث میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کی تلاوت سننے سے یاد دہانی ہو سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قرآن پڑھنے والے کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔
- قرآن کی تلاوت مسجد میں سننا فائدہ مند عمل ہے۔
- بھولی ہوئی آیت یاد آ جائے تو یہ اللہ کی نعمت ہے۔
