صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۸ - ایک آیت یاد دلا دی گئی

قرآن کی تلاوت سے یاد دہانی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۸

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا " .

عائشہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کا قرآن پڑھنا مسجد میں سنتے تھے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس پر رحمت کرے مجھے اس نے ایک آیت یاد دلا دی جو میں بھلا دیا گیا تھا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۸ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی وہی سادہ مگر اہم مضمون بیان ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ایک شخص کی قرآن خوانی سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحمت کرے، اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی جو مجھے بھلا دی گئی تھی۔ اس حدیث میں “قرآن کی تلاوت” اور “قرآن یاد رکھنا” کا پہلو سامنے آتا ہے۔ دوسروں کی تلاوت سننا کبھی یاد دہانی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ روایت میں نہ کوئی لمبی تفصیل ہے نہ کوئی الگ حکم، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے: قرآن سننے سے بھولی ہوئی آیت یاد آ سکتی ہے، اور قرآن پڑھنے والا دوسروں کے لیے فائدے کا سبب بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی تلاوت دوسروں کو یاد دہانی کرا سکتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے تلاوت کرنے والے کے لیے دعا فرمائی۔
  • قرآن سننا بھی فائدے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
  • بھول جانے پر یاد آ جانا اللہ کی طرف سے آسانی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں