صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۹ - قرآن یاد رکھنے کی مثال بندھے اونٹ جیسی

قرآن یاد رکھنے کی حدیث: بندھے اونٹ کی مثال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن یاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے اس اونٹ کی جس کا ایک پیر بندھا ہو کہ اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا تو رہا اور اگر چھوڑ دیا تو چل دیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن یاد رکھنے والے کی مثال ایسے اونٹ سے دی ہے جس کا ایک پیر بندھا ہو۔ اگر مالک اس کا خیال رکھے تو وہ رہتا ہے، اور اگر چھوڑ دے تو چلا جاتا ہے۔ یہ مثال بہت آسانی سے سمجھاتی ہے کہ حفظ قرآن کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ “قرآن یاد رکھنے کی حدیث” اور “حفظ قرآن دہرانا” اسی روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث میں اصل زور اس بات پر ہے کہ قرآن یاد کر لینے کے بعد اسے چھوڑا نہ جائے۔ یادداشت کی حفاظت کے لیے بار بار پڑھنا اور خیال رکھنا ضروری ہے، ورنہ بھولنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ یہ بات ہر حافظ اور قرآن یاد کرنے والے کے لیے نرم مگر واضح نصیحت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن یاد کرنے کے بعد اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • قرآن کو چھوڑ دینے سے بھولنے کا اندیشہ ہے۔
  • حفظ قرآن کے لیے دہرانا اہم ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے آسان مثال دے کر یاد رکھنے کا طریقہ سمجھایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں