صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۳ - سورہ فتح کی قرأت

سورہ فتح کی قرأت: سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۳

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ ، يَقُولُ : " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ ، لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ .

عبداللہ بن مغفل روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال مکہ فتح ہوا اپنی راہ میں سورۂ فتح پڑھی یعنی «اِنَّا فَتَحْنَا» اپنی سواری پر آواز دوہراتے گئے اپنی قرأت میں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت تم کو سناتا۔

صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر میں سورہ فتح پڑھ رہے تھے۔ آپ اپنی سواری پر تھے اور قرأت میں آواز دہراتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر لوگوں کے جمع ہو جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں آپ کی قرأت سنا دیتا۔ اس حدیث کا اصل موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا انداز ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سفر میں بھی قرآن پڑھا، خاص طور پر سورہ فتح۔ آواز دہرانے کا ذکر بھی آیا ہے، مگر اسے اسی واقعے کے اندر سمجھنا چاہیے۔ اس روایت سے قرآن کی تلاوت، سفر میں قرآن سے تعلق اور نبوی قرأت کے خوبصورت انداز کا احساس ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں بھی قرآن کی تلاوت کی۔
  • فتح مکہ کے سال سورہ فتح پڑھنے کا واقعہ بیان ہوا۔
  • قرأت میں آواز دہرانے کا ذکر اسی روایت میں آیا ہے۔
  • صحابہ کرام نبوی قرأت کے انداز کو یاد رکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں