صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۲ - ابو موسیٰ کی تلاوت

ابو موسیٰ کی تلاوت سننا: خوبصورت قرأت کی نبوی تعریف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۲

وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَى : " لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِكَ الْبَارِحَةَ ، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .

ابوموسیٰ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اگر تم مجھے دیکھتے جب میں کل رات تمہاری قرأت سن رہا تھا (تو بہت خوش ہوتے) بیشک تم کو ایک آواز دی گئی ہے آل داؤد علیہ السلام کی آوازوں میں سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اگر تم مجھے دیکھتے جب میں کل رات تمہاری قرأت سن رہا تھا، تو تم خوش ہوتے۔ پھر فرمایا کہ تمہیں آل داؤد کی آوازوں میں سے ایک آواز دی گئی ہے۔ اس روایت میں تلاوت سننے اور خوبصورت قرأت کی تعریف دونوں باتیں موجود ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت کو سنا اور پھر صبح انہیں اس کی خوشخبری دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اچھی تلاوت سننا دل کو متوجہ کرتا ہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اچھی آواز سے قرآن پڑھنا قاری کے لیے عزت کی بات ہے، مگر اصل مرکز قرآن ہی رہتا ہے، آواز نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی اچھی تلاوت سننا پسندیدہ عمل ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت کی تعریف کی۔
  • اچھی آواز قرآن کے لیے استعمال ہو تو نعمت بنتی ہے۔
  • تعریف میں بھی اصل نسبت قرآن سے رہنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں