صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۱ - ابو موسیٰ کی خوبصورت آواز

ابو موسیٰ اشعری کی قرأت: آل داؤد جیسی آواز کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوِ الأَشْعَرِيَّ ، أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .

بریدہ روایت:

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس یا فرمایا اشعری کو ایک آواز دی گئی ہے آل داؤد علیہ السلام کی آوازوں میں سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن قیس یا اشعری کو آل داؤد کی آوازوں میں سے ایک آواز دی گئی ہے۔ عبداللہ بن قیس سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ حدیث کا اصل موضوع خوبصورت قرأت قرآن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز کی تعریف کی، مگر تعریف صرف آواز کی نہیں بلکہ قرآن پڑھنے کے پس منظر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی آواز اللہ کی نعمت ہے، اور جب وہ قرآن کی تلاوت میں استعمال ہو تو اس کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کسی کے اچھے دینی عمل کی مناسب تعریف کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ بات سچ ہو اور مقصد حوصلہ افزائی ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھی آواز اللہ کی نعمت ہے۔
  • قرآن کی تلاوت میں خوبصورت آواز قابل قدر ہے۔
  • اچھے دینی عمل پر مناسب تعریف کی جا سکتی ہے۔
  • تعریف کا تعلق قرآن کی قرأت سے تھا، صرف آواز سے نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں