صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۰ - قرأت قرآن کے الفاظ
قرأت قرآن کی روایت: الفاظ کے فرق کے ساتھ محفوظ بیان
صحیح مسلم : ۱۸۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۰
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ : كَإِذْنِهِ .
مسلم روایت:
اور روایت کی ہم سے یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے اور ابن حجر نے، سب نے کہا کہ روایت کی ہم سے اسماعیل نے، ان سے محمد بن عمرو نے، ان سے ابی سلمہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت کے مثل مگر یحییٰ نے اپنی روایت میں «كَإِذْنِهِ» کہا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے وہی مضمون بیان کیا جو پہلے گزر چکا ہے۔ ترجمے کے مطابق اس روایت میں یحییٰ بن ابی کثیر والی روایت جیسا مفہوم ہے، مگر ابن ایوب نے اپنی روایت میں كإذنه کا لفظ کہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی الفاظ کی باریکی بھی محفوظ رکھتے تھے۔ موضوع کے لحاظ سے یہ روایت خوش آواز قرأت قرآن سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں قرآن کو اچھے انداز سے پڑھنے کا مفہوم برقرار ہے، مگر اصل خاص بات یہاں لفظی فرق کی نشاندہی ہے۔ اس لیے وضاحت میں یہی کہنا درست ہے کہ محدثین نے قرآن کی تلاوت سے متعلق روایت کو نقل کرتے وقت معنی کے ساتھ الفاظ کا فرق بھی بیان کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نقل کرنے میں الفاظ کے فرق کو بھی محفوظ رکھا گیا۔
- یہ روایت خوش آواز قرأت کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- دینی بات بیان کرتے وقت احتیاط اور امانت ضروری ہے۔
- قرآن کی تلاوت کا اچھا انداز ایک پسندیدہ مضمون ہے۔
