صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۵ - خوش آواز تلاوت قرآن

خوش آواز تلاوت قرآن: قرآن کو خوبصورت آواز سے پڑھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۵

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے پیار اور محبت سے کسی چیز کو نہیں سنتا جیسے نبی علیہ السلام سے خوش آواز کو جو خوش آواز سے قرآن کو پڑھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس طرح نہیں سنتا جیسے نبی کو سنتا ہے جو خوش آواز سے قرآن پڑھتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حسن تلاوت ہے۔ قرآن پڑھتے وقت آواز کو اچھا بنانا، الفاظ کو سنوار کر پڑھنا اور دل سے تلاوت کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔ یہاں بات گانے یا دکھاوے کی نہیں، بلکہ قرآن کی قرأت کو خوبصورت اور باادب بنانے کی ہے۔ حدیث میں خاص طور پر نبی کا ذکر آیا ہے، اس لیے ہمیں اسی حد میں رہ کر بات سمجھنی چاہیے۔ عام پڑھنے والے کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ قرآن کو بے دلی سے نہیں، بلکہ توجہ، ادب اور اچھی آواز کے ساتھ پڑھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی تلاوت اچھی آواز اور ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
  • حسن تلاوت میں دل کی توجہ بھی شامل رہنی چاہیے۔
  • قرآن پڑھتے وقت بے پروائی والا انداز مناسب نہیں۔
  • حدیث میں نبی کی خوش آواز قرأت کی خاص شان بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں