صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۴ - قرآن کی حفاظت اور مراجعت

قرآن کی حفاظت: حفظ قرآن کو تازہ رکھنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الإِبِلِ فِي عُقُلِهَا " ، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ .

ابوموسیٰ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیال کرو قرآن کا اس لئے کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے کہ وہ (قرآن) اونٹ سے زیادہ بھاگنے والا ہے اپنے بندھن سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کا خیال کرو۔ پھر قسم کے ساتھ بتایا کہ قرآن بندھے ہوئے اونٹ سے بھی زیادہ تیزی سے نکل جانے والا ہے۔ یہ مثال بہت عام فہم ہے۔ جیسے اونٹ بندھا ہونے کے باوجود چھوٹنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح قرآن بھی سینے میں باقی رکھنے کے لیے مسلسل توجہ چاہتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن مشکل بنا دیا گیا ہے، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی یادداشت کو تازہ رکھنا بندے کی ذمہ داری ہے۔ جو شخص حفظ قرآن، تلاوت قرآن اور قرآن کی دہرائی کو معمول بناتا ہے، اس کے لیے آیات کو یاد رکھنا آسان رہتا ہے۔ یہ حدیث قرآن کے ساتھ روزانہ تعلق کی طرف بلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کو سینے میں محفوظ رکھنے کے لیے معمول بنانا چاہیے۔
  • حفظ کے بعد دہرائی چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال دے کر بات آسان سمجھائی۔
  • قرآن کی یادداشت انسان کی مسلسل توجہ چاہتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں