صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۱ - قرآن یاد رکھنے کی حدیث
قرآن یاد رکھنے کی حدیث: آیات کو دہرانے کی آسان نصیحت
صحیح مسلم : ۱۸۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۱
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإسحاق بن إبراهيم ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ : نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ ، اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا ، مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ، مِنَ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا " .
عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا ہے ان میں سے وہ جو یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بھلا دیا گیا اور قرآن کا خیال اور یاداشت رکھو کہ وہ لوگوں کے سینوں سے ان چارپایوں سے زیادہ بھاگنے والا ہے جن کی ایک ٹانگ بندھی ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرآن یاد رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے روکا کہ آدمی یوں کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا۔ بہتر انداز یہ بتایا گیا کہ وہ کہے مجھے بھلا دیا گیا۔ اس میں قرآن کے بارے میں ادب بھی ہے اور اپنی کمزوری کا احساس بھی۔ حدیث میں قرآن کی مثال ایسے جانور سے دی گئی ہے جس کی ایک ٹانگ بندھی ہو مگر وہ پھر بھی چھوٹ کر نکلنے میں تیز ہو۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ قرآن حفظ کرنا کافی نہیں، قرآن کی یادداشت کو تازہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ جو شخص قرآن کی تلاوت، دہرائی اور مراجعت چھوڑ دیتا ہے، اس کے سینے سے آیات جلد نکل سکتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کو یاد رکھنے کے لیے بار بار دہرائی کی ضرورت ہے۔
- آیت بھولنے پر زبان کا انداز ادب والا ہونا چاہیے۔
- قرآن حفظ کرنے کے بعد بھی اس کا خیال رکھنا لازم ہے۔
- انسان کو اپنی یادداشت پر بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔
