صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۳ - آیت بھولنے کا درست انداز

آیت بھولنے کی حدیث: قرآن کے بارے میں ادب والا انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۳

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ ، أَنْ يَقُولَ : نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، أَوْ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .

ابن مسعود روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”آدمی کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بہت برا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ میں بھلا دیا گیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا کہ آدمی کا یہ کہنا بہت برا ہے کہ میں فلاں سورت یا فلاں آیت بھول گیا۔ اس کے بجائے اسے کہنا چاہیے کہ میں بھلا دیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام قرآن کے بارے میں ادب ہے۔ عام گفتگو میں انسان آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ میں آیت بھول گیا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز کو پسند نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے ساتھ زبان، دل اور عمل تینوں میں احتیاط چاہیے۔ قرآن کی یادداشت کمزور ہو جائے تو انسان کو اپنی کمی محسوس کرنی چاہیے، مگر الفاظ ایسے ہوں جن میں قرآن کی شان کے ساتھ ادب باقی رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کے بارے میں بات کرتے وقت الفاظ کا خیال رکھیں۔
  • آیت یا سورت یاد نہ رہے تو ادب والا جملہ استعمال کریں۔
  • قرآن کی یادداشت کمزور ہونے پر اپنی دہرائی بڑھائیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی اصلاح بھی سکھائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں