صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۶ - قرآن کی خوبصورت قرأت
قرآن کی خوبصورت قرأت: حسن تلاوت کی روایت
صحیح مسلم : ۱۸۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۶
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : كَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ .
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے فرمایا: ”جس طرح اجازت دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ قرآن کو خوبصورتی کے ساتھ پڑھیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کی قرآن والی خوبصورت قرأت کو خاص طور پر پسند فرماتا ہے۔ ترجمے میں الفاظ یہ ہیں کہ جس طرح اجازت دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ قرآن کو خوبصورتی کے ساتھ پڑھیں۔ اس حدیث میں اصل زور قرآن کی خوبصورت قرأت پر ہے۔ قرآن پڑھنا صرف الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں؛ اسے ادب، توجہ اور اچھے انداز سے پڑھنا چاہیے۔ البتہ متن میں جو بات آئی ہے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے، یعنی یہاں نبی کی تلاوت کا ذکر ہے۔ ہمارے لیے اس میں سادہ سبق یہ ہے کہ جب قرآن پڑھیں تو آواز کو سنواریں، مگر نیت قرآن کی تعظیم ہو، لوگوں کو دکھانا مقصد نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کو خوبصورت انداز سے پڑھنا پسندیدہ بات ہے۔
- حسن قرأت میں ادب اور توجہ کو ساتھ رکھنا چاہیے۔
- تلاوت کا مقصد قرآن کی عزت ہو، دکھاوا نہیں۔
- حدیث میں نبی کی قرأت کا خاص مقام بیان ہوا ہے۔
