صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۹ - خوش الحانی سے قرآن

خوش الحانی سے قرآن پڑھنا: بلند آواز تلاوت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۴۹

وحَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِقْلٌ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ ، كَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ ، يَجْهَرُ بِهِ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نبی کے خوش الحانی سے بلند آواز سے قرآن پڑھنے سے زیادہ کسی چیز پر اجر نہیں دیتے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس طرح نہیں سنتا جیسے نبی کو سنتا ہے جو قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز میں پڑھتا ہے۔ ترجمے میں اجر کا لفظ آیا ہے، مگر عربی عبارت میں اذن یعنی خاص سننے اور توجہ کا مضمون ہے۔ اس لیے بات کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ قرآن کی قرأت خوبصورت، باادب اور واضح ہو۔ خوش الحانی کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کو عام گانے جیسا بنا دیا جائے، بلکہ قرآن کے الفاظ کو اچھے لہجے، صاف آواز اور احترام کے ساتھ پڑھا جائے۔ یہ حدیث قاری کو یاد دلاتی ہے کہ آواز اللہ کی نعمت ہے؛ اسے قرآن کی خدمت میں لگانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کو صاف اور اچھے لہجے میں پڑھنا پسندیدہ ہے۔
  • خوش الحانی قرآن کے ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
  • بلند آواز تلاوت میں نیت اور وقار کا خیال رہے۔
  • حدیث نبی کی قرأت کے خاص مقام کو بیان کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں