صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۶ - سورہ کہف اور سکینت

سورہ کہف اور سکینت: قرآن کی تلاوت پر اترنے والی رحمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۶

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ ، فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو ، وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ " .

براء روایت:

ایک شخص سورۂ کہف پڑھتا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا دو لمبی رسیوں میں۔ سو اس پر ایک بدلی آنے لگی اور وہ گھومنے لگی اور قریب آنے لگی اور اس کا گھوڑا اس کو دیکھ کر بھاگنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تسکین ہے کہ اترتی ہے قرآن کی برکت سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ ایک بدلی اس پر آنے لگی، گھومنے لگی اور قریب ہونے لگی، تو گھوڑا بدکنے لگا۔ صبح اس شخص نے یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ سکینت تھی جو قرآن کی برکت سے اتری۔ اس روایت کا اصل موضوع سورہ کہف کی تلاوت اور سکینت قرآن ہے۔ یہاں ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے، اس لیے اسے عام دعووں میں بدلنے کے بجائے اسی طرح سمجھنا بہتر ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کی تلاوت ایک باوقار اور بابرکت عمل ہے، اور اللہ کے حکم سے اس پر سکینت نازل ہوئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورہ کہف کی تلاوت کا خاص واقعہ اس حدیث میں آیا ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلی کو سکینت قرار دیا۔
  • قرآن کی تلاوت بابرکت عمل ہے۔
  • خاص واقعات کو احتیاط سے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں