صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۹ - فرشتے قرآن سنتے ہیں

فرشتے قرآن سنتے ہیں: اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی تلاوت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۵۹

وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، قَالَ أُسَيْدٌ : فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى ، فَقُمْتُ إِلَيْهَا ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي ، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، قَالَ : فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي ، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ : فَانْصَرَفْتُ ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا ، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ " .

اسید بن حضیر روایت:

سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنی کھجور کے کھلیان میں ایک شب قرآن پڑھتے تھے کہ ان کا گھوڑا کودنے لگا اور وہ پڑھتے جاتے تھے اور پھر وہ کودتا تھا پھر وہ پڑھنے لگے پھر وہ کودنے لگا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈرا کہ کہیں یحییٰ کو کچل نہ ڈالے۔ سو میں اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ اور دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان سا میرے سر پر ہے کہ اس میں چراغ سے روشن ہیں اور وہ اوپر کو چڑھ گیا یہاں تک کہ میں نے اس کو پھر نہ دیکھا۔پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صبح کو حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں شب کو اپنے کھلیان میں قرآن پڑھتا تھا کہ یک بارگی میرا گھوڑا کودنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھے جا، اے ابن حضیر!“ انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھے گیا پھر وہ کودنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھے جا، اے ابن حضیر!“ انہوں نے کہا کہ میں پڑھے گیا۔ پھر وہ ایسا ہی کودنے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جا، اے ابن حضیر!“انہوں نے کہا: جب میں فارغ ہوا اور یحییٰ گھوڑے کے پاس تھا تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں یحییٰ کو کچل نہ ڈالے اور میں نے دیکھا ایک سائبان سا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور وہ اوپر کو چڑھ گیا یہاں تک کہ میں اسے نہ دیکھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فرشتے تھے کہ تمہاری قرأت سنتے تھے۔ اور اگر تم پڑھتے جاتے تو صبح کرتے اس طرح کہ لوگ ان (فرشتوں) کو دیکھتے اور وہ ان کی نظر سے پوشیدہ نہ رہتے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کو اپنے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ ان کا گھوڑا بار بار بدکنے لگا، اور انہیں اپنے بیٹے یحییٰ کے کچلے جانے کا خوف ہوا۔ جب انہوں نے دیکھا تو سر کے اوپر سائبان جیسی چیز تھی جس میں چراغ جیسے روشن نشان تھے، پھر وہ اوپر چڑھ گئی۔ صبح انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت سن رہے تھے، اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ انہیں دیکھتے۔ یہ ایک خاص واقعہ ہے، اس لیے اسے اسی طور پر بیان کرنا چاہیے۔ حدیث قرآن کی تلاوت کی عظمت، فرشتوں کے سننے اور صحابی کی احتیاط کو ایک ساتھ دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی تلاوت ایک عظیم عبادت ہے۔
  • اس خاص واقعے میں فرشتے قرأت سن رہے تھے۔
  • اسید رضی اللہ عنہ نے بچے کی حفاظت کا خیال بھی رکھا۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعے کی حقیقت واضح فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں