صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۰ - مؤمن اور قرآن کی مثال
مؤمن اور قرآن کی مثال: ترنج، کھجور، ریحان اور اندرائن والی حدیث
صحیح مسلم : ۱۸۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ ، لَا رِيحَ لَهَا ، وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ ، رِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ ، لَيْسَ لَهَا رِيحٌ ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ " .
ابوموسیٰ اشعریٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مثال اس مؤمن کی جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے کہ خوشبو اس کی عمدہ اور مزا اس کا اچھا ہے اور مثال اس مؤمن کی جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے کہ اس میں بو نہیں مگر میٹھا ہے۔ اور مثال اس منافق کی جو قرآن پڑھتا ہے اس پھول کے مانند ہے کہ بو اس کی اچھی ہے اور مزا اس کا کڑوا ہے، اور مثال اس منافق کی جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے کہ اس میں خوشبو بھی نہیں اور مزا کڑوا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مثالیں بیان فرمائیں۔ جو مؤمن قرآن پڑھتا ہے وہ ترنج کی طرح ہے، اس کی خوشبو بھی اچھی اور مزہ بھی اچھا۔ جو مؤمن قرآن نہیں پڑھتا وہ کھجور کی طرح ہے، خوشبو نہیں مگر مزہ میٹھا ہے۔ جو منافق قرآن پڑھتا ہے وہ ریحان کے پھول جیسا ہے، خوشبو اچھی مگر مزہ کڑوا۔ اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا وہ اندرائن جیسا ہے، نہ خوشبو اور مزہ بھی کڑوا۔ اس حدیث کا اصل موضوع قرآن پڑھنے والے کی مثال ہے۔ یہاں لوگوں کے دلوں اور ظاہر کے فرق کو مثالوں سے سمجھایا گیا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن کی تلاوت ایمان والے کے ظاہر کو بھی اچھا بناتی ہے، جبکہ اصل قدر دل کے ایمان سے جڑی رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھنے والے مؤمن کی مثال سب سے اچھی بیان ہوئی۔
- ایمان اصل بنیاد ہے، تلاوت اس کے حسن کو ظاہر کرتی ہے۔
- صرف ظاہر اچھا ہونا کافی نہیں، اندر کی حالت بھی معنی رکھتی ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں سے بات آسان سمجھائی۔
