صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۱ - روایت کے الفاظ میں امانت
قرآن کی حدیث میں الفاظ کا فرق: فاجر اور منافق کا ذکر
صحیح مسلم : ۱۸۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۱
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ : بَدَلَ الْمُنَافِقِ ، الْفَاجِرِ .
قتادہ روایت:
قتادہ سے بھی یہی روایت اسی اسناد سے مروی ہے مگر ہمام کی روایت میں منافق کے بدلے فاجر ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے، مگر حدیث کے علم میں بہت معنی رکھتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ قتادہ سے اسی سند کے ساتھ وہی روایت آئی، لیکن ہمام کی روایت میں “منافق” کے بجائے “فاجر” کا لفظ آیا۔ اس سے ایک صاف بات سمجھ آتی ہے کہ حدیث نقل کرنے والوں نے الفاظ کے چھوٹے فرق کو بھی چھپایا نہیں بلکہ صاف بیان کیا۔ قرآن کی حدیث، روایت کے الفاظ، سند کی حفاظت اور فاجر کے لفظ کا ذکر یہاں اصل موضوع ہیں۔ عام آدمی کے لیے اس میں سبق یہ ہے کہ دینی بات نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ جو لفظ ملا ہے، اسی کو امانت کے ساتھ بیان کیا جائے، نہ اپنی طرف سے بدل کر بات کو خوبصورت بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت امانت کا خیال رکھا جائے۔
- راویوں نے لفظی فرق بھی محفوظ رکھا، اسے معمولی نہیں سمجھا۔
- دینی بات بیان کرتے وقت اپنی طرف سے تبدیلی مناسب نہیں۔
- سند اور متن دونوں کی حفاظت حدیث کے علم کا حصہ ہے۔
