صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۲ - قرآن پڑھنے والے کے لیے دوہرا اجر

مشکل سے قرآن پڑھنے کی حدیث: دوہرا اجر اور حوصلہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۲

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ ، لَهُ أَجْرَانِ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کا مشاق (اس سے حافظ مراد ہو سکتا ہے) ان بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہے جو لوح محفوظ کے پاس لکھتے رہتے ہیں اور جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں اٹکتا ہے اور اس کو مشقت ہوتی ہے اس کو دوگنا ثواب ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں قرآن پڑھنے والے کے لیے بڑی امید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کا ماہر ہو، وہ بزرگ اور نیک فرشتوں کے ساتھ ہے۔ اور جو قرآن پڑھتا ہے، مگر اٹکتا ہے، زبان رکتی ہے، پڑھنا آسان نہیں لگتا، پھر بھی پڑھتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ یہاں اصل بات قرآن کی تلاوت، قرآن پڑھنے کی فضیلت، مشکل سے قرآن پڑھنے کا ثواب اور حافظ قرآن کا مقام ہے۔ یہ حدیث ایسے لوگوں کو بہت حوصلہ دیتی ہے جو صحیح پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ابھی روانی نہیں آئی۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ غلطی کو معمولی سمجھو؛ بلکہ اس میں کوشش کرنے والے قاری کی محنت کی قدر بتائی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن میں مہارت رکھنے والے کے لیے بلند مقام بیان ہوا۔
  • مشکل کے باوجود قرآن پڑھنے والے کی محنت ضائع نہیں جاتی۔
  • اٹک کر پڑھنے والا بھی قرآن سے جڑا رہے۔
  • تلاوت میں کوشش اور محنت کی قدر کی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں