صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۳ - مشکل تلاوت پر دو اجر

قرآن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لیے دوہرا اجر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۳

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ كِلَاهُمَا ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وقَالَ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ ، لَهُ أَجْرَانِ .

قتادہ روایت:

قتادہ اس سند سے بیان کرتے ہیں اور وکیع کی سند سے جو حدیث ہے اس میں یہ لفظ ہیں کہ اور وہ جو اس کو پڑھتا ہے اور اس پر مشکل ہوتا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۳ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی بات کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ لفظ آیا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور پڑھنا اس پر سخت یا مشکل ہوتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت صرف روانی والوں کے لیے نہیں، بلکہ سیکھنے والوں، نئے پڑھنے والوں اور محنت کرنے والوں کے لیے بھی بہت بڑی خیر ہے۔ مشکل سے قرآن پڑھنے کی حدیث، دوہرا اجر، قرآن کی مشقت اور تلاوت قرآن جیسے الفاظ اس روایت کے اصل موضوع سے جڑے ہیں۔ اس حدیث کا انداز حوصلہ دینے والا ہے۔ آدمی اگر زبان کی کمزوری یا مشق کی کمی کے باوجود قرآن سے تعلق رکھتا ہے، تو اسے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن پڑھنے میں مشکل ہو تو بھی تلاوت جاری رکھنی چاہیے۔
  • حدیث میں مشکل سے پڑھنے والے کے لیے دو اجر بیان ہوئے۔
  • قرآن سیکھنے والے کو اپنی محنت کم نہیں سمجھنی چاہیے۔
  • روایت کے الفاظ میں “مشکل ہونا” خاص طور پر ذکر ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں