صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۴ - ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی فضیلت
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور قرآن سنانے کا حکم
صحیح مسلم : ۱۸۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۴
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِأُبَيٍّ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ ، قَالَ : آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : اللَّهُ سَمَّاكَ لِي ، قَالَ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (یہ سب قاریوں کے سردار ہیں) سے فرمایا: کہ ”اللہ عزت والے، بزرگی والے نے مجھے حکم کیا کہ میں تمہارے آگے قرآن پڑھوں۔“ انہوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام میرے آگے لیا۔“ تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رونے لگے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی ایک بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں۔ انہوں نے حیرت اور ادب سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اللہ نے تمہارا نام میرے سامنے لیا۔ یہ سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اس روایت میں ابی بن کعب کی فضیلت، قرآن سنانا، اللہ کا نام لینا اور صحابی کا ادب سب سامنے آتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ نسبت اور اللہ کے ہاں قبولیت انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے لیے خاص فضیلت بیان ہوئی۔
- قرآن سنانا اور سننا دونوں ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- اللہ کی طرف سے نام لیے جانے کی خبر سن کر صحابی کا دل نرم ہوا۔
- دینی عزت ملنے پر عاجزی اور رونا بھی ایمان کی کیفیت ہو سکتی ہے۔
