صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۵ - سورہ لم یکن اور ابی بن کعب
سورہ لم یکن سنانے کا حکم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ
صحیح مسلم : ۱۸۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۶۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ، قَالَ : وَسَمَّانِي لَكَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَبَكَى " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا مگر اس میں «لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا» سنانے کا ذکر ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۶۵ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کو مزید واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں “لم یکن الذین کفروا” پڑھ کر سناؤں۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا اللہ نے میرا نام لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ یہ جواب سن کر وہ رو پڑے۔ اس حدیث میں سورہ بینہ، لم یکن، ابی بن کعب کی فضیلت، قرآن سننا اور صحابی کا ادب بنیادی باتیں ہیں۔ متن میں صرف اسی واقعے کی خبر ہے، اس لیے بات بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ قرآن کے ساتھ خاص نسبت بندے کے لیے بڑی عزت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورہ لم یکن سنانے کا ذکر اس روایت میں صاف آیا ہے۔
- سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام لینے کی خبر ادب سے پوچھی۔
- دینی فضیلت سن کر صحابی کا رونا عاجزی کی علامت ہے۔
- قرآن کا سننا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
