صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۱ - سورہ یوسف والی روایت کا لفظی فرق
سورہ یوسف کی حدیث میں “احسنت” کے لفظ کا فرق
صحیح مسلم : ۱۸۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۷۱
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ لِي : أَحْسَنْتَ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں «أَحْسَنْتَ» کا لفظ نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۱ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلے واقعے کا دوسرا طریق بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل واقعہ وہی ہے، مگر بتایا گیا کہ ابو معاویہ کی روایت میں “فقال لي أحسنت” یعنی “آپ نے فرمایا: خوب پڑھا” کا لفظ نہیں ہے۔ اس سے حدیث کے طالب علم کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ روایات میں الفاظ کا فرق بھی امانت سے نقل کیا جاتا ہے۔ سورہ یوسف کی قراءت، ابن مسعود رضی اللہ عنہ، قرآن کی درست تلاوت اور “احسنت” کے لفظ کا فرق اس روایت کے اہم پہلو ہیں۔ یہ متن ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ اصل واقعہ بدل گیا، بلکہ صرف اتنا بتاتا ہے کہ ایک سند میں ایک جملہ مذکور نہیں۔ اسی احتیاط سے حدیث کا علم محفوظ رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ میں فرق واضح بیان کیا گیا۔
- ایک لفظ کے نہ ہونے کو بھی محدثین نے محفوظ کیا۔
- دینی متن نقل کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- اصل واقعے کو سمجھتے ہوئے سندی فرق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
