صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۲ - نماز میں تین آیات کی فضیلت
نماز میں قرآن کی آیات پڑھنے کی فضیلت
صحیح مسلم : ۱۸۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی تم میں سے چاہتا ہے کہ جب گھر لوٹ کر آئے تو تین حاملہ اونٹنیاں پائے جو نہایت فربہ ہوں بڑی بڑی۔“ ہم نے کہا: بے شک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تین آیتیں کہ ان کو آدمی نماز میں پڑھتا ہے بہتر ہے اس کیلئے تین اونٹنیوں سے جو بڑی اور موٹی ہوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ایک ایسی مثال کے ذریعے بات سمجھائی جو ان کے لیے قیمتی تھی۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ گھر لوٹے تو تین بڑی، موٹی حاملہ اونٹنیاں پائے؟ صحابہ نے کہا: بے شک۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی نماز میں تین آیات پڑھے تو یہ اس کے لیے تین ایسی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں تلاوت قرآن، تین آیات کی فضیلت، قرآن کا اجر اور دنیاوی مال سے بہتر خیر ہے۔ حدیث ہمیں قرآن کی قدر سمجھاتی ہے، خاص طور پر نماز کے اندر پڑھی جانے والی آیات کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں قرآن کی چند آیات پڑھنا بڑی خیر ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی فائدہ سمجھانے کے لیے آسان مثال دی۔
- دنیاوی مال کی خواہش کے مقابلے میں قرآن کی آیات بہتر بتائی گئیں۔
- نماز کی تلاوت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
