صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۵ - الزہراوین کی فضیلت کا دوسرا طریق
سورہ بقرہ اور آل عمران کی فضیلت: الفاظ کے فرق کے ساتھ روایت
صحیح مسلم : ۱۸۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۷۵
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : وَكَأَنَّهُمَا فِي كِلَيْهِمَا ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ : بَلَغَنِي .
چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مذکورہ بالاحدیث اس سند سے بھی آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کا دوسرا طریق ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ چند الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی مضمون آیا ہے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ قرآن پڑھو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا، اور سورہ بقرہ و آل عمران کی خاص فضیلت بیان ہوئی۔ اس روایت میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض الفاظ ایک طریق میں آئے اور دوسرے میں نہیں آئے۔ اس سے حدیث کے الفاظ کی حفاظت کا انداز بھی معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی شفاعت، الزہراوین، سورہ بقرہ کی برکت، آل عمران کی فضیلت اور روایت کا فرق اس متن کے بنیادی الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں قرآن سے تعلق بڑھانے کی نرم مگر مضبوط دعوت دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کئی سندوں سے نقل ہوا۔
- الفاظ کا فرق امانت کے ساتھ بیان کیا گیا۔
- قرآن پڑھنے کی ترغیب اصل پیغام ہے۔
- سورہ بقرہ اور آل عمران کی فضیلت اس روایت میں بھی موجود ہے۔
