صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۴ - قرآن قیامت کے دن سفارشی بنے گا
قرآن کی شفاعت اور سورہ بقرہ و آل عمران کی فضیلت
صحیح مسلم : ۱۸۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۷۴
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ ، اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا ، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ .
ابوامامہ باہلی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قرآن پڑھو اس لئے کہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی ہو کر آئے گا۔ اور دو سورتیں چمکتی پڑھو سورۂ البقرہ اور سورۂ ال عمران اس لئے کہ وہ میدان قیامت میں آئیں گی گویا دو بادل ہیں یا وہ سائبان یا دو ٹکڑیاں ہیں اڑتے جانور کی اور حجت کرتی ہوئی آئیں گی اپنے لوگوں کی طرف اور سورۃ بقرہ پڑھو کہ لینا اس کا برکت ہے اور چھوڑنا اس کا حسرت ہے اور جادوگر لوگ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئے گا۔ پھر آپ نے دو روشن سورتوں، یعنی سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران، کو پڑھنے کی ترغیب دی۔ فرمایا کہ وہ قیامت کے دن دو بادلوں، دو سائبانوں یا پرندوں کی دو صفوں کی طرح آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت کریں گی۔ سورہ بقرہ کے بارے میں فرمایا کہ اسے لینا برکت ہے اور چھوڑنا حسرت ہے، اور جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس حدیث میں قرآن پڑھنے کی فضیلت، شفاعت قرآن، سورہ بقرہ، آل عمران اور قیامت کا ذکر صاف موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
- قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لیے قیامت کے دن سفارشی بن کر آئے گا۔
- سورہ بقرہ اور آل عمران کی خاص فضیلت بیان ہوئی۔
- سورہ بقرہ کو چھوڑنے کو حسرت بتایا گیا۔
