صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۸ - رات میں آخری دو آیات بقرہ
سورہ بقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۸۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۷۸
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ ، فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فِي الآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ " .
عبدالرحمٰن روایت:
میں سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کعبہ شریف کے پاس ملا اور میں کہا: مجھے ایک حدیث تمہاری زبانی پہنچی ہے سورۃ بقرہ کی فضیلت میں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سورۂ بقرۂ کی آخری دو آیتیں جو رات کو پڑھے اس کو کافی ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کعبہ کے پاس ملے اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کے بارے میں سنی ہوئی حدیث پوچھی۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات کو سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھے، وہ اس کے لیے کافی ہیں۔ اس روایت میں آخری دو آیات بقرہ، رات کی تلاوت، کفایت اور فضیلت بقرہ اصل موضوع ہیں۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کی شرح میں بھی اسی بات پر رکنا چاہیے کہ رات میں ان آیات کی تلاوت کے لیے خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات میں سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے کی فضیلت ہے۔
- حدیث میں ان آیات کو “کافی” ہونے کا ذکر آیا۔
- صحابہ حدیث کی تصدیق کے لیے براہ راست پوچھتے تھے۔
- مختصر عمل بھی حدیث میں بڑی خیر کے ساتھ آیا ہے۔
