صحیح مسلم حدیث ۱۸۸۸ - تہائی قرآن کی تلاوت کا عملی بیان

صحابہ کے سامنے سورہ اخلاص: تہائی قرآن کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۸۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْشُدُوا ، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ ، فَقَالَ : بَعْضُنَا لِبَعْضٍ ، إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ : " سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جمع ہو جاؤ کہ میں تمہارے آگے تہائی قرآن پڑھوں۔“ غرض کہ جمع ہو گئے جن کو جمع ہونا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» پڑھی اور اندر چلے گئے تو ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے آگے تہائی کلام اللہ پڑھوں سو یہ سورت تہائی کلام اللہ کے برابر ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۸۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمع ہو جاؤ، میں تمہارے سامنے تہائی قرآن پڑھوں گا۔ لوگ جمع ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور قل هو الله احد پڑھی۔ آپ اندر گئے تو صحابہ نے آپس میں خیال کیا کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ تہائی قرآن پڑھوں گا، سو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ یہ روایت سورہ اخلاص تہائی قرآن حدیث کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ اس میں صحابہ کا شوق، سوالی کیفیت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سب سامنے آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ اخلاص کی فضیلت صحابہ کے سامنے عملی طور پر واضح فرمائی۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم دین کی بات کو سمجھنے میں بہت متوجہ رہتے تھے۔
  • سورہ اخلاص کو اس حدیث میں تہائی کلام اللہ کے برابر بتایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں