صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۲ - آخری تہائی رات کی دعا
آخری تہائی رات کی دعا: استغفار اور مانگنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۷۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۷۲
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الله الْأَغَرّ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ ، فَيَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا پروردگار جو بڑی برکتوں اور بلند ذات والا ہے آخر تہائی رات میں ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اس کو دوں، کوئی ہے جو مجھ سے بخشش چاہے میں اسے بخش دوں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۲ کا خلاصہ
یہ حدیث آخری تہائی رات کی دعا، سوال اور استغفار کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب، جو بڑی برکتوں اور بلند ذات والا ہے، ہر رات آخری تہائی حصے میں آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے، میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے، میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش چاہے، میں اسے بخش دوں؟ اس حدیث میں تین باتیں نمایاں ہیں: دعا، سوال اور استغفار۔ متن میں اللہ تعالیٰ کے نزول کا ذکر ہے، اسے ویسا ہی مانا جاتا ہے جیسا حدیث میں آیا، اس کی کیفیت بیان نہیں کی گئی۔ حدیث کا عملی پیغام یہ ہے کہ آخری رات غفلت کا وقت نہیں، اللہ سے مانگنے اور بخشش چاہنے کا وقت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخری تہائی رات میں دعا، سوال اور استغفار کا خاص ذکر ہے۔
- اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اور مانگنا حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
- بخشش طلب کرنے والے کے لیے استغفار کی دعوت دی گئی ہے۔
- حدیث میں اللہ تعالیٰ کے نزول کی کیفیت بیان نہیں کی گئی، اس لیے اسی حد پر رہنا چاہیے۔
