صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۳ - رات میں اللہ سے مانگنے کی دعوت
رات میں اللہ سے مانگنے کی دعوت: دعا اور مغفرت کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۷۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷۷۳
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَنَا الْمَلِكُ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اترتا ہے اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف ہر رات میں جب تہائی رات اول کی گزر جاتی ہے۔ اور فرماتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں، کون ہے کہ مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں، کون ہے کہ مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں، غرض کہ صبح روشن ہونے تک ایسا ہی فرماتا رہتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۷۷۳ کا خلاصہ
اس روایت میں رات کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا، سوال اور مغفرت مانگنے کی دعوت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے جب تہائی رات اول گزر جاتی ہے، پھر فرماتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے کہ میں اسے بخش دوں؟ حدیث میں یہ بھی آیا کہ یہ سلسلہ صبح روشن ہونے تک رہتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے نزول کی کیفیت نہیں بتائی گئی، اس لیے بات کو حدیث کے الفاظ تک رکھنا چاہیے۔ عملی طور پر یہ روایت ہمیں رات میں دعا اور استغفار کی قدر یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کی دعوت بیان ہوئی ہے۔
- اللہ سے سوال اور مغفرت طلب کرنے کا ذکر حدیث کے الفاظ میں ہے۔
- حدیث میں صبح روشن ہونے تک اس ندا کے جاری رہنے کا بیان ہے۔
- اللہ تعالیٰ کے نزول کی کیفیت بیان نہیں کی گئی، اس لیے اس پر اپنی طرف سے بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
