صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۲ - صبح کے بعد نماز سے رکنے کی ہدایت

صبح کے بعد نماز سے رکنے کی حدیث اور نماز کے ممنوع اوقات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۲۲

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كُلُّهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ ، وهِشَامٍ " بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ " .

قتادہ روایت:

روایت ہے قتادہ سے اسی اسناد سے مگر اتنا فرق ہے کہ سعید اور ہشام نے یوں روایت کیا «بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ» یعنی صبح کے بعد حتیّٰ کہ آفتاب چمک جائے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۲ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو ایک اور لفظ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہاں الفاظ میں یہ فرق آیا ہے کہ صبح کے بعد نماز سے رکنے کا ذکر ہے یہاں تک کہ سورج چمک جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر یا صبح کے بعد نفل نماز کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔ حدیث کا اصل موضوع نماز کے ممنوع اوقات ہے، خاص طور پر صبح کے بعد نماز اور سورج چمکنے تک انتظار۔ عام آدمی کے لیے اس میں سیدھی بات یہ ہے کہ ہر وقت اپنی مرضی سے نماز شروع نہیں کی جاتی، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حد کا خیال کیا جاتا ہے۔ عبادت میں محبت کے ساتھ پیروی بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صبح کے بعد سورج کے چمکنے تک نماز سے رکنے کا ذکر آیا ہے۔
  • نماز کے اوقات میں الفاظ کے فرق سے اصل حکم سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
  • نفل عبادت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حد کے اندر ہونی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں