صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۳ - عصر اور فجر کے بعد نماز نہیں

عصر اور فجر کے بعد نماز نہیں: ممنوع اوقات کی مشہور حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۲۳

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۹۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں، اور فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔ یہ الفاظ بہت واضح ہیں اور نماز کے ممنوع اوقات کو آسان انداز میں سمجھا دیتے ہیں۔ جو لوگ عصر کے بعد نفل نماز یا فجر کے بعد نفل کے بارے میں پوچھتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت میں وقت کی حد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کی بندگی وہی بہتر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے اور وقت کے مطابق ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز نہ پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز سے رکنے کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • نفل نماز کے لیے بھی درست وقت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں