صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۶ - جمعہ کے خطبہ میں حمد و ثنا

جمعہ کے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۰۶

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كَانَتْ خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ ، وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ " ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ .

جابر بن عبداللہ روایت:

جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور پھر اس کے بعد بلند آواز سے یہ فرمایا اور اوپر کی روایت کے مثل حدیث بیان کی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۰۰۶ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے شروع ہوتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے وہی مضمون بیان فرماتے جو دوسری روایت میں آیا ہے۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خطبہ جمعہ میں سب سے پہلے اللہ کی تعریف اور ثنا ہونی چاہیے۔ خطبہ صرف معلوماتی گفتگو نہیں بلکہ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ بلند آواز کا ذکر بھی آیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بات سننے والوں تک واضح پہنچائی جاتی تھی۔ خطیب کے لیے یہ ایک اہم سبق ہے کہ خطبہ میں حمد، نصیحت، قرآن و سنت کی بات اور سنجیدگی ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خطبہ جمعہ کی ابتدا اللہ کی حمد و ثنا سے ہونی چاہیے۔
  • نصیحت ایسی ہو کہ سننے والوں تک واضح پہنچے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنجیدہ اور مؤثر ہوتا تھا۔
  • خطبہ میں مقصد لوگوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں