صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۸ - خطبہ کے دوران آنے والے کی دو رکعت

خطبہ جمعہ کے دوران مسجد میں آنے والے کی دو رکعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۱۸

وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : قُمْ فَارْكَعْ .

سیدنا جابر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ پڑھتے تھے کہ ایک شخص آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو دو رکعت پڑھ لو“ (یعنی سنت)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۰۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت پڑھ لو۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ خطبہ جاری ہونے کے باوجود آنے والے شخص کو دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ روایت میں سوال و جواب کا انداز بھی اہم ہے: پہلے پوچھا گیا، پھر حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والے شخص کے لیے نماز کا معاملہ اہم ہے۔ البتہ اس حدیث سے وہی بات لی جائے جو متن میں صاف ہے، یعنی اس خاص واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھنے کا حکم فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خطبہ کے دوران آنے والے شخص سے نماز کے بارے میں پوچھا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔
  • مسجد میں آنے کے بعد نماز کا اہتمام اہم ہے۔
  • حدیث سے حکم لیتے وقت متن کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں