صحیح مسلم حدیث ۲۰۲۵ - خطبہ میں دین سکھانے کی مثال
خطبہ جمعہ میں دین پوچھنے والے کو تعلیم دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۰۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۲۵
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ ، قَالَ : فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ ، قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ حَسِبْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا ، قَالَ : فَقَعَدَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا " .
حمید بن ہلال روایت:
ابورفاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ایک مرد غریب (مسافر) اپنا دین دریافت کرنے کو آیا ہے، نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تک آ گئے اور ایک کرسی لائے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کے پائے لوہے کے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے (معلوم ہوا کرسی پر بیٹھنا منع نہیں) اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر خطبہ کو تمام کیا (یہ کمال خلق تھا اور معلوم ہوا کہ ضروری بات خطبہ میں روا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک غریب مسافر اپنا دین پوچھنے آیا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے، خطبہ چھوڑ کر ان کے پاس آئے، کرسی پر بیٹھے، اور انہیں وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور خطبہ مکمل کیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دینی تعلیم، سوال کا جواب، اور خطبہ کے دوران ضرورت مند کو سکھانا ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت، توجہ اور تعلیم دینے کا آسان انداز سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین سیکھنے کے لیے سوال کرنا جائز اور اہم عمل ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے کو نظر انداز نہیں کیا۔
- ضرورت کے وقت خطبہ کے دوران بھی دینی تعلیم دی جا سکتی ہے۔
