صحیح مسلم حدیث ۲۰۳۰ - سورہ جمعہ کے بعد سورہ غاشیہ
نماز جمعہ میں سورہ جمعہ کے بعد سورہ غاشیہ
صحیح مسلم : ۲۰۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۳۰
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يَسْأَلُهُ " أَيَّ شَيْءٍ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سِوَى سُورَةِ الْجُمُعَةِ ؟ " فَقَالَ : " كَانَ يَقْرَأُ هَلْ أَتَاكَ " .
عبیداللہ بن عبداللہ روایت:
ضحاک بن قیس نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سوائے سوره جمعہ کے اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا «هَلْ أَتَاكَ»۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ضحاک بن قیس نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں سورہ جمعہ کے علاوہ کون سی سورت پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «هَلْ أَتَاكَ» پڑھتے تھے، یعنی سورہ غاشیہ۔ اس حدیث میں سوال و جواب کا انداز ہے۔ کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک خاص مسئلہ پوچھا گیا اور مختصر جواب دیا گیا۔ اصل موضوع نماز جمعہ کی قراءت ہے۔ اس میں سورہ جمعہ، سورہ غاشیہ، جمعہ کی نماز، اور مسنون قراءت کے الفاظ آتے ہیں۔ اس روایت سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سورہ جمعہ کے ساتھ «هَلْ أَتَاكَ» بھی پڑھی جاتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے اہل علم صحابہ سے پوچھا گیا۔
- جمعہ میں سورہ جمعہ کے علاوہ سورہ غاشیہ کا ذکر آیا ہے۔
- مختصر سوال کا مختصر اور صاف جواب دینا بھی علمی طریقہ ہے۔
