صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۱ - روایت کے الفاظ کی احتیاط
حدیث کے الفاظ کی حفاظت اور روایت کی احتیاط
صحیح مسلم : ۲۱۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۱
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً " ، وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ .
ہشام روایت:
مسلم رحمہ اللہ نے کہا کہ بیان کی یہی روایت مجھ سے ابوغسان مسمعی نے، ان سے عبدالمالک نے، روایت کی ہشام نے، اسی اسناد سے مثل اس کے مگر اس میں یہ ہے ”دیکھا میں نے ایک عورت بڑی آواز والی لمبی کالی کو اور یہ نہیں فرمایا: ”وہ بنی اسرائیل کی تھی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع روایت کے الفاظ کی امانت ہے۔ یہاں امام مسلم رحمہ اللہ نے بتایا کہ اسی سند سے ایک روایت نقل ہوئی، مگر اس میں ایک لفظی فرق ہے۔ اس روایت میں کہا گیا کہ دوزخ میں ایک لمبی، کالی اور بلند آواز والی حمیری عورت دیکھی گئی، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کی تھی۔ عام طور پر لوگ اس طرح کی روایت کو پڑھتے ہوئے اصل واقعہ پر دھیان دیتے ہیں، مگر حدیث کا علم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ راوی کے الفاظ کو جیسا آیا ہو ویسا ہی نقل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت کے الفاظ، صحیح مسلم حدیث، اور حدیث کی سند جیسے موضوعات تلاش کرنے والوں کے لیے یہ حدیث خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت لفظی فرق کو بھی امانت کے ساتھ محفوظ کرنا چاہیے۔
- راوی نے جو بات نہیں کہی، اسے روایت میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔
- دین کی بات نقل کرتے ہوئے احتیاط اور دیانت ضروری ہے۔
