حدیث ۲۱۰۳

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ : خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : آيَةٌ . قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي ، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ ، قَالَتْ : فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا ، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا ، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ ، فَيُقَالُ : مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَيَقُولُ : هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى ، فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَيُقَالُ لَهُ : نَمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ ، فَنَمْ صَالِحًا ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ ، قَالَتْ أَسْمَاءُ : " فَيَقُولُ : لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا ، فَقُلْتُ :

‏‏‏‏ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گہن ہوا اور میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی۔ وہ نماز پڑھتی تھیں سو میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کو اشارہ کیا۔ میں نے کہا: ایک نشانی ہے؟ (یعنی اللہ کی قدرت کی) انہوں نے اشارہ سے کہا: ہاں (اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں ضرورت کے وقت اشارہ جائز ہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبا قیام کیا کہ مجھے غش آنے لگا۔ اور میں نے ایک مشک سے جو میرے بازو پر تھی اپنے سر اور منہ پر پانی ڈالنا شروع کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور آفتاب کھل گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا اور اللہ کی حمد ثنا کی۔ پھر اس کے بعد کہا: ”کوئی چیز ایسی نہیں رہی جسے میں نے پہلے نہ دیکھا تھا مگر یہاں میں نے اس کو کھڑے کھڑے دیکھ لیا یہاں تک کہ میں نے جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا۔ اور میری طرف وحی بھیجی گئی کہ تم اپنی قبروں میں جانچے جاؤ گے جیسے دجال کے فتنہ سے جانچے جاؤ گے اور ہر ایک کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا کہ تو اس شخص کو کیا جانتا ہے؟ پھر اگر قبر والا مؤمن ہے تو کہے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اللہ کے بھیجے ہوئے اور ان پر رحمت کرے اور سلامتی۔ وہ ہمارے پاس کھلے معجزے اور سیدھی راہ کی خبر لے کر آئے اور ہم نے ان کی حدیث قبول کی اور ان کا کہنا مانا۔ تین بار وہ یہی جواب دے گا۔ پھر وہ (یعنی فرشتہ) اسے سے کہے گا کہ تو سو جا۔ اور ہم کو معلوم تھا کہ تو ایماندار ہے سو اچھا بھلا سوتا رہ۔ اور منافق کہتا ہے (یعنی فرشتہ کو) کہ میں نہیں جانتا۔ میں لوگوں سے سنتا تھا کچھ کہتے تھے سو میں نے بھی کہہ دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں