صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۴ - سورج گرہن پر قیام اور نماز
سورج گرہن پر لوگوں کا کھڑے ہو کر نماز پڑھنا
صحیح مسلم : ۲۱۰۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا هِىَ تُصَلِّى فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ.
اسماء روایت:
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور لوگوں کو کھڑے دیکھا اور وہ نماز پڑھتی تھیں سو میں نے کہا: کیا حال ہے لوگوں کا؟ اور بیان کی حدیث مثل ابن نمیر کے جو انہوں نے ہشام سے روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۴ کا خلاصہ
یہ روایت سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے اسی واقعے کو ایک مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو دیکھا کہ لوگ کھڑے ہیں اور سیدہ عائشہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے۔ پھر راوی نے بتایا کہ حدیث اسی طرح بیان ہوئی جیسے پہلے ابن نمیر کی روایت میں گزری۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کسوف کا واقعہ صحابہ کے درمیان معروف تھا اور لوگ سورج گرہن کو اللہ کی نشانی سمجھ کر نماز کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس حدیث کی خاص بات یہ ہے کہ یہ واقعہ لمبی تفصیل کے بجائے مختصر حوالہ کے ساتھ آیا ہے، مگر اس کا مرکز وہی ہے: گرہن کے وقت نماز، قیام، اور اللہ کی طرف رجوع۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج گرہن کے وقت نماز کی طرف توجہ دی گئی۔
- صحابہ اور صحابیات نے اللہ کی نشانی دیکھ کر عبادت کو اہم سمجھا۔
- حدیث کی روایت کبھی مختصر اور کبھی تفصیل کے ساتھ آتی ہے۔
