حدیث ۲۱۰۶
صحیح مسلم : ۲۱۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، قَالَتْ : تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ ، فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا ، لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ " .
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھبرائے مراد یہ تھی کہ جس دن سورج گہن ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبراہٹ سے کسی عورت کی بڑی چادر اوڑھ لی اور چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر آپ کو لا کر دی اور نماز میں اتنی دیر کھڑے رہے کہ اگر کوئی شخص آتا تو یہ بھی نہ جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ہے جیسے رکوع آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہوئے ہیں بہت دیر کھڑے رہنے کے سبب سے۔
