صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۵ - سورج گرہن کے لفظ کی وضاحت
خَسَفَتِ الشَّمْسُ: حدیث کے لفظ کو درست ادا کرنے کی اہمیت
صحیح مسلم : ۲۱۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ ، وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي ، فَقُلْتُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : " لَا تَقُلْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ، وَلَكِنْ قُلْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ " .
عروہ روایت:
«كَسَفَتِ الشَّمْسُ» نہ کہو لیکن «خَسَفَتِ الشَّمْسُ» کہو۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۵ کا خلاصہ
اس روایت کا مرکزی موضوع نماز کسوف کا حکم نہیں بلکہ الفاظ حدیث کی درستگی ہے۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ کَسَفَتِ الشَّمْسُ نہ کہو، بلکہ خَسَفَتِ الشَّمْسُ کہو۔ یہ بات ہمیں سمجھاتی ہے کہ اہل علم صرف معنی ہی نہیں، الفاظ کی ادائیگی کا بھی خیال رکھتے تھے۔ جب کوئی شخص سورج گرہن کی حدیث، خسوف الشمس، یا نماز کسوف کے الفاظ تلاش کرتا ہے تو ایسی روایت اسے بتاتی ہے کہ حدیث میں الفاظ کو لاپرواہی سے بدلنا مناسب نہیں۔ یہاں کوئی لمبا حکم بیان نہیں ہوا، بلکہ ایک مختصر اصلاح ہے۔ یہی مختصر اصلاح بھی علم حدیث میں اہم ہے، کیونکہ دین کی بات نقل کرتے وقت الفاظ کی صحت امانت کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ ادا کرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔
- اہل علم نے چھوٹے لفظی فرق کو بھی محفوظ رکھا۔
- دین کی بات میں معنی کے ساتھ لفظ کی درستگی بھی اہم ہے۔
