صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۸ - گرہن پر ہاتھ اٹھا کر دعا
سورج گرہن کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا، تکبیر اور تہلیل
صحیح مسلم : ۲۱۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۱۸
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَنَبَذْتُهُنَّ ، وَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " .
عبدالرحمٰن بن سمرہ روایت:
میں تیر پھینک رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کہ سورج گہن ہوا اور میں نے تیروں کو پھینک دیا اور دل میں کہا کہ دیکھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا نیا کام ہوتا ہے سورج گہن میں آج کے دن۔ میں ان تک پہنچا تو وہ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور دعا کرتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے اور اس کی تعریف کرتے تھے اور «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہتے تھے یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھی اور دو سورتیں پڑھیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ وہ تیر پھینک رہے تھے کہ سورج گرہن ہو گیا۔ انہوں نے تیر چھوڑ دیے اور سوچا کہ آج دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے وقت کیا کرتے ہیں۔ جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ آپ دونوں ہاتھ اٹھائے دعا کر رہے ہیں، اللہ اکبر کہہ رہے ہیں، اللہ کی حمد کر رہے ہیں، اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہہ رہے ہیں۔ یہ عمل سورج صاف ہونے تک جاری رہا۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی اور دو سورتیں پڑھیں۔ اس حدیث میں گرہن کے وقت دعا، ذکر، تکبیر، حمد، تہلیل، اور نماز کا عملی ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کے وقت دعا اور ذکر کا اہتمام کیا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر، حمد، اور تہلیل کی۔
- عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا کام چھوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھا۔
- سورج صاف ہونے کے بعد دو رکعت نماز کا ذکر آیا ہے۔
