صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۷ - نماز کسوف میں صبر اور قیام

نماز کسوف میں طویل قیام اور عبادت پر صبر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۷

وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ " ، وَزَادَ : " فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي ، وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي " .

ابن جریج روایت:

ابن جریج روایت کرتے ہیں اسی اسناد سے مثل اس کے اور اس میں یہ کہا کہ کھڑے ہوئے بہت دیر تک کہ کھڑے ہوتے تھے، پھر رکوع کرتے تھے۔ اور یہ بھی زیادہ کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ میں دیکھتی تھی ایک عورت کو جو مجھ سے بوڑھی تھی اور دوسری کو جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی۔

صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۷ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو مزید واضح کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے موقع پر بہت دیر تک کھڑے رہتے، پھر رکوع کرتے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ وہ اپنے سے بڑی عمر کی عورت کو دیکھتیں اور ایک دوسری عورت کو بھی جو ان سے زیادہ بیمار تھی۔ اس سے روایت کا منظر سامنے آتا ہے کہ نماز کسوف میں قیام بہت لمبا تھا، مگر لوگ نماز میں موجود رہے۔ اس حدیث سے ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ کی نشانی کے وقت نماز کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ یہاں کسی اضافی حکم کو بڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ روایت کا اصل بیان طویل قیام، رکوع، اور حاضر لوگوں کے صبر کے بارے میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کسوف میں طویل قیام کا ذکر اس روایت میں موجود ہے۔
  • سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اپنے اردگرد کمزور خواتین کو دیکھا اور کھڑی رہیں۔
  • اللہ کی نشانی کے وقت عبادت میں سنجیدگی دکھائی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں