صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۸ - لمبا قیام اور رکوع کی حدیث
نماز کسوف میں لمبا قیام، لمبا رکوع اور عبادت کا حوصلہ
صحیح مسلم : ۲۱۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۰۸
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ، قَالَتْ : فَقَضَيْتُ حَاجَتِي ، ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ، فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ ، فَأَقُولُ : هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي فَأَقُومُ ، فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ " .
اسماء روایت:
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے وہی مضمون روایت کیا جو اوپر گزرا۔ اور اس کے بعد کہا کہ میں نے اپنی حاجت پوری کی اور پھر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نماز کو کھڑے ہیں تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ میں اپنے تئیں دیکھتی تھی کہ جی چاہتا تھا کہ بیٹھ جاؤں۔ اور ایک ضعیف عورت کو دیکھا تو میں نے دل میں کہا یہ تو مجھ سے زیادہ ضعیف ہے۔ پھر میں کھڑی رہی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور بہت لمبا رکوع کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص اور آتا تو جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی رکوع نہیں کیا (یعنی قومہ، قیام کے برابر تھا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا اپنا مشاہدہ تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔ سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر نماز کی طرف متوجہ ہوئے۔ سیدہ اسماء مسجد میں آئیں تو آپ کو نماز میں کھڑے دیکھا، وہ بھی ساتھ کھڑی ہو گئیں۔ قیام اتنا لمبا ہوا کہ انہیں بیٹھنے کا خیال آیا، پھر انہوں نے ایک کمزور عورت کو دیکھا اور دل میں کہا کہ یہ مجھ سے زیادہ کمزور ہے، اس لیے وہ کھڑی رہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا رکوع کیا، سر اٹھایا، اور پھر اتنا لمبا قیام کیا کہ آنے والا سمجھتا کہ شاید ابھی رکوع نہیں ہوا۔ اس روایت میں نماز کسوف کا عملی نقشہ، صبر، اور عبادت کی سنجیدگی سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کسوف میں لمبا قیام اور لمبا رکوع اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- عبادت میں کبھی کمزوری محسوس ہو تو حوصلہ بھی مطلوب ہے۔
- سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کمزور عورت کو دیکھ کر خود کو کھڑا رکھا۔
- گرہن کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو بہت اہمیت دی۔
