صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۴ - گرہن دیکھو تو نماز اور دعا کرو

گرہن کے وقت نماز اور دعا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۱۴

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا ، فَصَلُّوا وَادْعُوا اللَّهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ " .

ابومسعود انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند دونوں نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیوں میں سے کہ اللہ ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور وہ کسی کے مرنے کے سبب سے نہیں گہناتیں۔ پھر جب تم گہن دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ اللہ اس بلا کو تم سے دور کر دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۴ کا خلاصہ

یہ حدیث سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں بہت سادہ اور واضح ہدایت دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ یہ کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جب تم ان میں سے کچھ دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو، یہاں تک کہ اللہ تم سے وہ حالت دور کر دے۔ اس حدیث میں نماز کسوف، دعا، اور غلط عقیدے کی اصلاح تینوں باتیں آتی ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ گرہن کو تماشہ یا صرف عام واقعہ سمجھنے کے بجائے اللہ کی طرف پلٹنے کا موقع سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • گرہن کو کسی انسان کی موت سے جوڑنا درست نہیں۔
  • گرہن کے وقت نماز اور دعا کا حکم دیا گیا۔
  • اللہ کی نشانی دیکھ کر بندے کو غفلت کے بجائے رجوع کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں