صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۵ - گرہن پر کھڑے ہو کر نماز پڑھو

سورج اور چاند گرہن: اللہ کی نشانی دیکھ کر نماز پڑھو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۱۵

وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيْسَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا " .

ابومسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند لوگوں میں سے کسی کی وفات پر گرہن نہیں ہوتے لیکن کہ نشانیاں ہیں اللہ کی نشانیوں میں جب تم ان کو دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۱۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند لوگوں میں سے کسی کی وفات پر گرہن نہیں ہوتے، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔ یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ گرہن کو کسی شخص کی موت، پیدائش، یا دنیاوی واقعے سے جوڑنے کے بجائے اللہ کی نشانی سمجھنا چاہیے۔ اس موقع پر انسان کو نماز کی طرف آنا چاہیے۔ جو لوگ نماز کسوف کی حدیث، گرہن پر نماز، یا سورج گرہن کے اسلامی احکام تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت براہ راست اور آسان رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گرہن کسی انسان کی وفات کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
  • سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • گرہن دیکھ کر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی تعلیم دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں