صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۱ - سورج چاند گہن اور نماز کسوف
نماز کسوف کی حدیث: سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں
صحیح مسلم : ۲۱۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۲۱
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کے مرنے، جینے سے نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں ایک صاف بات بتائی۔ گہن کسی انسان کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نہیں لگتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس لیے جب مسلمان سورج یا چاند کو گہن کی حالت میں دیکھیں تو انہیں نماز پڑھنی چاہیے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ کائنات کے بڑے واقعات کو غلط عقیدوں سے نہ جوڑا جائے، بلکہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے۔ نماز کسوف، گہن کی نماز، سورج گرہن کی نماز اور چاند گرہن کی نماز جیسے الفاظ اسی تعلیم سے جڑے ہیں۔ یہاں خوف پھیلانے یا اندازے لگانے کے بجائے نماز کی طرف رہنمائی دی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج اور چاند کا گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
- گہن کو اللہ کی نشانی سمجھ کر نماز کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
- مسلمان کو ایسے موقع پر غلط خیالات کے بجائے عبادت اختیار کرنی چاہیے۔
