صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۰ - سورج گرہن پر نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل
سورج گرہن کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل جاننے کی کوشش
صحیح مسلم : ۲۱۲۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۲۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا .
عبدالرحمٰن بن سمرہ روایت:
میں تیر اندازی کر رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہ اچانک سورج گرہن ہو گیا پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۲۰ کا خلاصہ
یہ روایت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کا مختصر بیان ہے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تیر اندازی کر رہے تھے کہ اچانک سورج گرہن ہو گیا۔ پھر انہوں نے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا جیسا پہلے روایات میں آیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تاکہ دیکھیں کہ اس موقع پر آپ کیا کرتے ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دین کے عملی طریقے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھتے تھے۔ سورج گرہن کی نماز، دعا، ذکر، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل جاننے کے لیے وہ اپنے کام چھوڑ دیتے تھے۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس میں وہی بات بیان کی جانی چاہیے جو اس کے الفاظ اور اسی واقعے کے قریب مضمون سے ثابت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھ کر دین سیکھتے تھے۔
- سورج گرہن جیسے موقع پر دنیاوی کام چھوڑ کر دینی رہنمائی کی طرف توجہ دی گئی۔
- یہ روایت پچھلی روایات کے مضمون کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔
