صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۵ - دائیں طرف سے آغاز
غسل میت میں دائیں طرف سے شروع کرنا
صحیح مسلم : ۲۱۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۵
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْسِلَ ابْنَتَهُ قَالَ لَهَا : " ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا ، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا " .
ام عطیہ روایت:
جب ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اپنی صاحبزادی کو غسل کا، تو فرمایا: ”ہر عضو کو داہنی طرف سے شروع کرنا اور پہلے وضو کے اعضاء کو دھونا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث غسل میت کے طریقے میں ترتیب کی بہت واضح ہدایت دیتی ہے۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں اپنی صاحبزادی کو غسل دینے کا حکم دیا تو فرمایا کہ اس کے دائیں اعضا سے شروع کرو اور وضو کے مقامات سے آغاز کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غسل میت صرف پانی ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ اس میں ترتیب، ادب اور دینی طریقہ شامل ہے۔ دائیں طرف سے شروع کرنا اور وضو کے اعضا کو پہلے دھونا اسی ترتیب کا حصہ ہے جو حدیث میں صاف الفاظ سے آیا ہے۔ جو لوگ میت کو غسل دینے کا طریقہ جاننا چاہتے ہیں، اس روایت میں ان کے لیے ایک بنیادی اصول ہے: کام شروع کرنے کا رخ اور جگہ دونوں نبی صلى الله عليه وسلم نے بتا دیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل میت میں دائیں طرف سے شروع کرنے کا حکم آیا ہے۔
- وضو کے اعضاء کو پہلے دھونے کی ہدایت ہے۔
- غسل میت میں ترتیب کا خیال رکھا جائے۔
- عمل کو نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق کیا جائے۔
